ایم کیوایم پاکستان اور لندن کی اصطلاح اسٹیبلشمنٹ کے عاقبت نااندیش لوگوں کی ذہنی اختراع ہے ، قائد تحریک الطاف حسین

برطانیہ کی مختلف یونیورسٹیوں اورکالجوں کے طلباء کے نمائندہ وفدکی جناب الطاف حسین سے ملاقات کی
طلباء نے مختلف سوالات بھی کیے، قائدتحریک الطاف حسین طلباء کے تمام سوالوں کے تسلی بخش جوابات دیئے
ایم کیوایم پاکستان اورایم کیوایم لندن میں کیافرق ہے ؟ایک طالبعلم کا سوال
ایم کیوایم پاکستان اور لندن کی اصطلاح اسٹیبلشمنٹ کے عاقبت نااندیش لوگوں کی ذہنی اختراع ہے ، قائد تحریک الطاف حسین
یہ اختراع اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کی Intellectual bankruptcy کاثبوت ہے ، الطاف حسین
ایم کیوایم پاکستان اورلندن کا ڈھول پیٹنے والے حضرات بظاہربینائی رکھنے کے باوجود نابینا ہیں، الطاف حسین
بصارت سے محروم افراد کی تعلیم وتربیت کیلئےBraille writing system بنایا گیاہے، الطاف حسین
اسی طرح کا Braille رائٹنگ سسٹم بینائی رکھنے کے باوجود نابینا افراد کیلئے بھی بنایاجائے، الطاف حسین
1978ء سے آج 2017ء تک ایم کیوایم ایک ہی ہے جس کے مونوگرام میں ایم کیوایم پاکستان تحریرہے، الطاف حسین
بینائی رکھنے کے باوجود نابینا افراد یہ تحریر اپنی انگلیوں سے Braille سسٹم کے ذریعہ پڑھ سکتے ہیں، الطاف حسین
Braille سسٹم تیارکرنے والی جو کمپنیاں یہ نیک کام کریں گی انہیں اللہ تعالیٰ جزائے خیرعطافرمائے گا،الطاف حسین
اس کارخیرسے ایم کیوایم پاکستان اورایم کیوایم لندن کی بحث کاسلسلہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا، الطاف حسین
ملاقات میں ملکی وبین الاقوامی سیاسی ومعاشی صورتحال سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی اظہارخیال
برطانیہ کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کے سوال وجواب کا سلسلہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے آج برطانیہ کی مختلف یونیورسٹیوں اورکالجوں کے طلباء کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کی ۔ملاقات میں ملکی وبین الاقوامی سیاسی ومعاشی صورتحال سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی اظہارخیال کیاگیا۔ اس موقع پر وفد میں شامل طلباء نے جناب الطاف حسین سے مختلف سوالات بھی کیے، جناب الطاف حسین طلباء کے تمام سوالوں کے تسلی بخش جوابات دیئے ۔ جناب الطاف حسین نے ایک طالبعلم کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ ایم کیوایم پاکستان اورایم کیوایم لندن میں کیافرق ہے ؟ کے جواب میں کہاکہ ایم کیوایم پاکستان اور ایم کیوایم لندن کی اصطلاح دراصل اسٹیبلشمنٹ کے عاقبت نااندیش بااختیار لوگوں کی ذہنی اختراع ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ اختراع اسٹیبلشمنٹ کے ان عناصر کی Intellectual bankruptcy کاثبوت ہے ، پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے جو صحافی ، رپورٹرزاورٹاک شوز میں آنے والے تجزیہ نگار ، اسٹیبلشمنٹ کے اس ذہنی دیوالیہ پن کو مانتے ہوئے صبح شام اپنی تحریروں ، تجزیوں، ٹی وی مباحثوں اورخبروں میں ڈھول پیٹتے رہتے ہیں درحقیقت یہ حضرات بظاہربینائی رکھنے کے باوجود نابینا ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نابینا افراد کی تعلیم وتربیت کیلئے قائم مستند کمپنیوں کے مالکان وڈائریکٹرحضرات سے میری اپیل ہے کہ جس طرح انہوں نے بصارت سے محروم افراد کی تعلیم وتربیت کیلئےBraille writing system تیارکیاہے اسی طرح کا Braille رائٹنگ سسٹم بینائی رکھنے کے باوجود نابینا افراد کیلئے بھی بنائیں تاکہ وہ ایم کیوایم کے Logo یا مونوگرام کا آسانی سے مطالعہ کرسکیں ۔ جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ مذکورہ کمپنیاں 11، جون1978ء کوقائم ہونے والی اے پی ایم ایس او سے 18 ،مارچ 1984ء کو قائم ہونے والی مہاجرقومی موومنٹ اور مہاجرقومی موومنٹ سےجولائی 1997ء کو قائم ہونے والی متحدہ قومی موومنٹ کے Logo یا مونوگرام کا Braille تیارکرکے اسے مارکیٹ میں لائیں بالخصوص تعلیمی بک اسٹالوں میں انتہائی سستے داموں فروخت کیلئے رکھ دیں تاکہ بینائی رکھنے کے باوجود بینائی سے محروم صحافی ، دانشور اور تجزیہ نگار Braille کے ذریعہ ایم کیوایم کے مونوگرام کا اچھی طرح مطالعہ کرلیں اورانہیں معلوم ہوجائے کہ 1978ء سے 1984ء ، 1984ء سے 1997ء اور1997ء سے آج 2017ء تک ایم کیوایم ایک ہی ہے جس کے Logo یا مونوگرام میں ایم کیوایم پاکستان صاف طورپر تحریرہے ۔ بینائی رکھنے کے باوجود نابینا افراد یہ تحریر اپنی انگلیوں کی مدد سے Braille سسٹم کے ذریعہ پڑھ سکتے ہیں اورپڑھنے کے سلسلے میں بینائی رکھنے کے باوجود انہیں اپنی نابینا پن کی بیماری سے نجات مل سکتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ Braille رائٹنگ سسٹم تیارکرنے والی جو کمپنیاں یہ نیک کام کریں گی انہیں اللہ تعالیٰ دین ودنیا میں جزائے خیرعطافرمائے گااور اس کارخیرسے ایم کیوایم پاکستان اورایم کیوایم لندن کی بحث کاسلسلہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ قائدتحریک جناب الطاف حسین سے سوال وجواب کا سلسلہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں کے طلباء انتہائی مطمئن ہوکراپنے اپنے تعلیمی اداروں اورگھروں کو روانہ ہوئے ۔